رسول حمزہ تووچ حمزہ توف (پیدائش:28 ستمبر 1923ء - وفات: 3 نومبر 2003ء ) روسی جمہوریہ داغستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ عوامی شاعراور نثرنگار ہیں۔
رسول حمزہ توف سوویت یونین کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر 28 ستمبر 1923ء پیدا ہوئے۔ رسول حمزہ توف نے اپنے پہلے اشعار گیارہ سال کی عمر میں لکھے۔ ایک حیرت انگیز واقعے نے ان کی دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ 1934ء میں داغستان کے اس بلند پہاڑ ی گاؤں سدا میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، تاریخ میں پہلی بار ایک ہوائی جہاز اترا تھا اور مشہور شاعر حمزہ سداسا کے بیٹے نے اس عجوبے کو دیکھ کر شاعری کے میدان میں پہلا قدم اتھایا۔ ہائی اسکول کی تعلیم، استادوں کی تربیت کا کالج، آوار زبان کا سفری تھیٹر، ریڈیو نامہ نگار۔ یہ تھے مرحلے ان کی جوانی کے سوانح کے۔ صحت کی حالت ایسی تھی کہ انھوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں لیکن جب داغستان کی سرحد ہی پر جنگ ہو رہی تھی تو شاعر کے شاعر بیٹے نے دشمن پر اپنی نظموں اور گیتوں کے وار کیے، سوویت فوج کی فتوحات سے خود وجدان حاصل کیا اور اپنے ہم وطنوں کو کانامے انجام دینے کا ہمت و حوصلہ عطا کیا۔ جنگ کے بعد انہوں نے ماسکو میں ادبیات کے انسٹی ٹیوٹ موسوم بہ گورکی سے 1950ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔یہیں بہت سے ادیبوں سے ان کی دوستی ہوئی، یہیں ان کی نظموں کے مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوئے جنہیں سوویت یونین میں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے قارئین میں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔
ان کی شاعری وطن دوستانہ اور صدیوں پرانی عوامی دانش سے مملو ہے۔ کردار کی جرات، لوگوں کے باہمی رشتوں میں دلی تعلق، بلند ترین انقلابی آدرشوں کی خاطر کارنامے انجام دینے پر آمادگی نے رسول حمزہ توف کی شاعری کو لوگوں کے لیے ضروری بنا دیا ہے۔ رسول حمزہ توف داغستانی ادیبوں کی انجمن کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ رسول حمزہ توف نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف اور مایاکوفسکی کی تخلیقات آوار زبان میں ترجمہ کیں۔
رسول حمزہ توف 80 سال کی عمر میں3 نومبر 2003ء میں ماسکو، روس میں وفات پا گئے۔